I'm a Product

Friday, January 9, 2026

باپ کی امانت

بیانیہ

[اسٹیج پر ہلکی روشنی۔ پس منظر میں آہستہ سی تلاوت:]

وَوَصَّيْنَا الإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا

(ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کی ہے)



---


حصہ 1: بیٹی کی پیدائش – رحمت کا آنا


راوی:

جب اُس گھر میں بیٹی پیدا ہوئی

تو لوگوں نے رسموں کا حساب لگایا

اور باپ نے حدیث یاد کی۔


نبی ﷺ نے فرمایا:

"جس کے ہاں بیٹیاں ہوں، اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی"

(مسلم)


باپ نے بچی کو گود میں لیا

کان میں اذان دی

اور دل میں دعا رکھی:


“یا اللہ!

یہ تیری امانت ہے

مجھے اس امانت کا حق ادا کرنے والا بنا دے۔”



---


حصہ 2: بچپن – تربیت عبادت ہے


بیٹی نے چلنا سیکھا

تو باپ نے صبر سیکھا۔


گرتی تو باپ اُٹھاتا

روتی تو باپ خاموشی سے سینے سے لگا لیتا۔


وہ جانتا تھا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"کوئی باپ اپنی اولاد کو اچھے اخلاق سے بہتر تحفہ نہیں دے سکتا"

(ترمذی)


اس لیے اس نے بیٹی کو صرف کھلونے نہیں دیے

دعائیں دیں

ادب دیا

اور اللہ پر بھروسہ سکھایا۔



---


حصہ 3: تعلیم – علم فرض ہے


جب بیٹی نے کتاب اٹھائی

تو باپ نے فخر سے کہا:


نبی ﷺ کا فرمان ہے:

"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے"

(ابن ماجہ)


کبھی فیس کم تھی

کبھی حالات سخت

مگر نیت پختہ تھی۔


باپ رات کو ہاتھ اٹھا کر کہتا:

“یا اللہ!

میری بیٹی کو ایسا علم دے

جو اسے تیرے قریب کرے

اور دنیا میں باوقار بنائے۔”



---


حصہ 4: جوانی – حیا اور حدود


وقت بدلا

بیٹی بڑی ہوئی

دنیا کے رنگ دیکھے۔


باپ نے سختی نہیں کی

حدود سمجھائیں۔


کہا:

“بیٹی،

اسلام ہمیں قید نہیں کرتا

وہ ہمیں محفوظ کرتا ہے۔


نبی ﷺ نے فرمایا:

"حیا ایمان کا حصہ ہے"

(بخاری)


اپنی حیا کو اپنی طاقت بنانا

کمزوری نہیں۔”



---


حصہ 5: شادی – امانت کی منتقلی


پھر وہ دن آیا

جب نکاح کی بات چلی۔


باپ نے حدیث پڑھی:

"جب تمہارے پاس وہ شخص رشتہ لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو، تو اس سے نکاح کر دو"

(ترمذی)


وہ دولت نہیں دیکھ رہا تھا

وہ دین دیکھ رہا تھا

کردار دیکھ رہا تھا۔


کہا:

“میری بیٹی کو شوہر چاہیے

حاکم نہیں۔”



---


حصہ 6: شادی سے پہلے باپ کی نصیحت


ایک رات

باپ نے بیٹی کو پاس بٹھایا۔


کہا:

“بیٹی،

نکاح عبادت ہے

اور عبادت صبر مانگتی ہے۔


شوہر کی نافرمانی نہ کرنا

مگر اللہ کی نافرمانی میں

کسی کی بات نہ ماننا۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اگر میں اللہ کے سوا کسی کو سجدے کا حکم دیتا، تو بیوی کو شوہر کے لیے دیتا"

(ترمذی)


مگر یاد رکھنا

ظلم پر خاموشی صبر نہیں ہوتی۔”



---


حصہ 7: گھریلو زندگی – سکون کا راز


باپ نے کہا:

“بیٹی،

اللہ نے نکاح کا مقصد بتایا ہے:


لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا

(تاکہ تم سکون پاؤ)


اگر سکون نہ رہے

تو بات کرو

دعا کرو

اور ضد کو چھوڑ دو۔


غصے میں نبی ﷺ کی سنت یاد رکھنا:

وضو

خاموشی

اور جگہ بدل لینا۔”



---


حصہ 8: آزمائش کے دن


باپ کی آواز بھاری ہو گئی۔


کہا:

“زندگی میں آزمائشیں آئیں گی

کیونکہ اللہ فرماتا ہے:


وَلَنَبْلُوَنَّكُم

(ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے)


بیماری

تنگی

اولاد میں تاخیر


ان دنوں ایک دوسرے کو تھامنا

الزام نہ لگانا

کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”



---


حصہ 9: آخری الفاظ


باپ جانتا تھا

وہ رخصتی نہیں دیکھ پائے گا۔


اس نے تسبیح بیٹی کو دی

اور کہا:


“جب دل گھبرا جائے

تو یہ پڑھنا:


رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي


اور یاد رکھنا

باپ کی دعا

اولاد کے حق میں

رد نہیں ہوتی۔”



---


حصہ 10: رخصتی


شادی کا دن آیا

باپ کی تصویر سجی تھی

مگر اس کی تربیت زندہ تھی۔


بیٹی نے دل میں کہا:

“ابو،

آپ نے مجھے صرف بیاہ نہیں دیا

آپ نے مجھے ایمان دیا ہے۔”



---


اختتام


راوی:

یہ کہانی ایک باپ کی نہیں

یہ امانت کی کہانی ہے۔


بیٹیاں بوجھ نہیں

رحمت ہوتی ہیں

اور باپ

ان رحمتوں کے نگہبان۔


آخری جملہ:

"جو باپ اپنی بیٹی کو دین دے جائے،

وہ کبھی مرتا نہیں۔"

آخری دعا

[راوی آہستہ آواز میں، دونوں ہاتھ اٹھے ہوئے]

اے اللہ!

یہ بیٹی تیری امانت ہے

جسے ایک باپ نے

صبر، محبت اور ایمان کے ساتھ پالا۔

اے ربِ کریم!

اس کے نکاح کو سکون بنا دے،

اس کے گھر کو محبت سے بھر دے،

اس کے شوہر کو اس کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے

اور اسے اپنے شوہر کے لیے رحمت۔

یا اللہ!

ان دونوں کے درمیان

وہ محبت ڈال دے

جس کا ذکر تُو نے قرآن میں فرمایا،

اور ان کے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے نرم فرما دے۔

اے اللہ!

اگر کبھی زندگی میں تنگی آئے

تو صبر عطا فرما،

اگر خوشی آئے

تو شکر کرنے والا بنا دے۔

یا رب!

اس بیٹی کو

اپنی عزت کی حفاظت کرنے والی،

اپنے دین پر قائم رہنے والی،

اور اپنے ماں باپ کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔

اے اللہ!

اس باپ کی مغفرت فرما

جس نے اپنی بیٹی کو تیرے حوالے کیا،

اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے،

اور اس کی کی ہوئی ہر دعا کو

اس بیٹی کی زندگی میں قبول فرما۔

یا رب العالمین!

ہم سب کی بیٹیوں کو

ایمان، سکون اور عزت والی زندگی عطا فرما،

اور ہمارے گھروں کو

سنتِ نبوی ﷺ کا نمونہ بنا دے۔

آمین یا رب العالمین۔

Saturday, October 11, 2025

مذہبی شناخت اور سیاسی ماحول موجودہ ہندوستانی معاشرت کا تجزیہ


عنوان: مذہبی شناخت اور سیاسی ماحول — موجودہ ہندوستانی معاشرت کا تجزیہ*

تمہید

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی تہذیبی رنگا رنگی، مذہبی تنوع، اور ثقافتی ہم آہنگی کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، زبانیں، رسم و رواج، اور طرزِ زندگی ایک ہی سرزمین پر صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہی تنوع دراصل اس ملک کی پہچان بھی ہے اور اس کی طاقت بھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، اس تنوع کو طاقت کے بجائے کمزوری بنا دینے کی کوشش کی گئی۔


آزادی کے فوراً بعد ہندوستان نے خود کو ایک سیکولر جمہوریت کے طور پر پیش کیا۔ آئین میں صاف لکھا گیا کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا، اور تمام شہریوں کو مذہب، ذات، اور فرقے سے بالاتر ہو کر برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔ یہ نظریہ ملک کے اتحاد اور بھائی چارے کی بنیاد تھا۔ مگر وقت کے ساتھ، سیاسی مفادات نے اس نظریے کو کمزور کر دیا۔ مذہب کو ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا، اور ایک نیا بیانیہ جنم لینے لگا — جس میں شناخت مذہب سے طے ہونے لگی، کردار سے نہیں۔


نتیجہ یہ ہے کہ آج معاشرتی گفتگو کے اہم موضوعات، جیسے مہنگائی، بیروزگاری، تعلیمی معیار، اور صحت کے نظام کی کمزوری، پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ان کی جگہ ایسے مسائل نے لے لی ہے جو قوم کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر نفرت، شک، اور مسخ شدہ فخر نے عوامی شعور پر پردہ ڈال دیا ہے۔--

مذہب اور سیاست — تاریخی پس منظر

ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ سے مذہب، فلسفے، اور روحانیت کا گہوارہ رہی ہے۔ مختلف عقائد صدیوں تک ایک ساتھ رہے۔ مگر سیاسی مفادات نے اکثر مذہب کو طاقت کے لیے استعمال کیا۔ برطانوی دور میں “پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو” کی پالیسی نے فرقہ وارانہ سوچ کو ہوا دی۔ آزادی کے بعد بھی مذہبی شناخت کو ووٹ بینک کے لیے استعمال کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شہری اب اپنے کردار کے بجائے مذہب کی بنیاد پر ناپے جانے لگے

موجودہ دور کا منظرنامه

گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں سیاسی اور سماجی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ملک کی ترقی، روزگار، تعلیم اور صحت کے مسائل کی جگہ اب زیادہ تر گفتگو مذہب اور نظریاتی شناخت کے گرد گھومتی ہے۔


نوجوان طبقہ، جو ملک کی اصل طاقت ہے، سوشل میڈیا اور جذباتی پروپیگنڈے کی وجہ سے الجھا ہوا نظر آتا ہے۔ سیاست دان اور میڈیا عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر نظریاتی اور مذہبی اختلافات پر مرکوز کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے دماغ مسائل کے بجائے شناخت کے بیانیوں میں الجھ جاتے ہیں۔


بگڑتا ہوا سماجی توازن

سماجی توازن اعتماد، احترام اور انصاف پر قائم ہوتا ہے۔

مگر فرقہ وارانہ واقعات، میڈیا اور سیاسی بیان بازی نے عوام کے دلوں میں دوریاں پیدا کر دی ہیں۔

خوف اور شک کی فضا نوجوانوں کو منطقی سوچ سے دور کر رہی ہے، اور معاشرتی ہم آہنگی خطرے میں ہے۔


بیروزگاری، مہنگائی اور گمراہ کن ترجیحات

ملک میں نوجوانوں کی تعلیم اور ہنر کے باوجود روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ مہنگائی نے زندگی مشکل کر دی ہے۔

سیاسی جماعتیں اور میڈیا عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر مذہبی اور نظریاتی بیانیوں پر مرکوز کر دیتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ عوامی توانائی نفرت اور خوف کی طرف مڑ جاتی ہے، جبکہ حقیقی ترقی پس منظر میں رہ جاتی ہے۔


میڈیا، تعلیم، بہتر ہندوستان اور نتیجہ

میڈیا، جو کبھی عوام کی آواز ہوا کرتا تھا، آج اکثر طاقت اور سیاست کے تابع ہے۔ نوجوان اور عوام حقیقی مسائل کے بجائے نظریاتی اختلافات پر مصروف ہیں۔


تعلیم اور سماجی بیداری ہی وہ ذریعہ ہیں جو نوجوانوں کو منطقی سوچ، رواداری، اور مثبت سوچ کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں میں شعور پیدا کریں تاکہ وہ سماجی تقسیم کے بجائے ترقی کی طرف راغب ہوں۔


ہندوستان کو دراصل سماجی ہم آہنگی اور عملی ترجیحات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اپنے ہنر، علم اور تعلیم پر توجہ دینی ہوگی۔ شہریوں کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے۔


مذہبی اور سیاسی تقسیم نے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی ہے، مگر تعلیم، شعور، رواداری، اور عملی ترجیحات پر توجہ دے کر ہم نہ صرف اپنی ذاتی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے ملک کو مضبوط اور متحد کر سکتے ہیں۔


یاد رکھیں: ایک اچھا شہری وہ ہے جو اپنے ملک، معاشرت اور انسانیت کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اختلافات کے باوجود انصاف اور علم کے راستے پر قائم رہے، اور نسلِ نو کو بھی یہی سبق دے۔


Saturday, May 3, 2025

ایک خواب جو حقیقت لگے

 روزنامچہ — دن نمبر 1

تاریخ:1/5/2025 ایک روشن صبح


آج صبح فجر سے کچھ دیر پہلے آنکھ کھلی۔ کھڑکی سے ہلکی ہوا اندر آ رہی تھی، اور باہر پرندوں کی مدھم آواز سنائی دے رہی تھی۔ بستر سے اٹھا، وضو کیا، اور نماز پڑھی۔ سجدے میں آج کچھ دیر زیادہ ٹھہر گیا۔ آنکھوں میں نمی تھی… خوشی کی۔ جو مانگا تھا، وہ رب نے دے دیا۔


نماز کے بعد صحن میں نکلا تو فضا میں تازگی تھی۔ آم کے درخت کی شاخوں پر اوس کے قطرے موتیوں جیسے لگ رہے تھے۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر ایک پتا چھوا، جیسے رب کا لمس محسوس ہو رہا ہو۔


پھولوں کی کیاری کی طرف گیا—گلاب کھلا ہوا تھا، موتیا کی خوشبو دور تک پھیل رہی تھی۔ پانی کا کین اٹھایا اور ایک ایک پودے کو آہستہ آہستہ پانی دیا۔ ہر پھول کی جڑ میں ایک دعا رکھی۔


پچھواڑے میں گیا تو سبزیاں تر و تازہ نظر آئیں۔ پالک کی پتیوں پر شبنم کا ہلکا ہلکا لمس تھا۔ آج تھوڑی گھاس نکالی، اور نئی دھنیا کی بیل کو سہارا دیا۔ ہاتھ مٹی سے بھر گئے، دل نور سے۔


تبھی پیچھے سے میری پوتی کی آواز آئی:

"دادا! دادا! میں نے بھی پودا لگانا ہے!"

میں نے ہنستے ہوئے اسے پاس بلایا، بیج اس کے ہاتھ میں رکھا، اور کہا:

"بیٹا، زندگی ایسے ہی اگتی ہے—محنت، صبر اور دعا سے۔"


دوپہر کو سائے لمبے ہو گئے۔ میں آم کے درخت کے نیچے چٹائی پر بیٹھا، ایک کپ چائے، اور ہاتھ میں تسبیح۔ بیوی میرے پاس آ کر بیٹھ گئی، ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیا۔

ہم دونوں جانتے تھے، یہ وہ دن ہے جس کی دعائیں ہم نے برسوں پہلے مانگی تھیں۔

---


روزنامچہ — دن نمبر 2

تاریخ:2/5/2025 ایک خوشگوار سہ پہر


آج صبح ذرا تاخیر سے آنکھ کھلی، مگر سکون ویسا ہی تھا جیسے کل۔ نماز کے بعد تھوڑا دیر صحن میں بیٹھا رہا۔ درختوں سے گرتی ہوئی ٹھنڈی چھاؤں نے دل کو چھو لیا۔ آم کے درخت پر چند ننھے بور نظر آئے، جیسے چھوٹے خواب شاخوں سے جھانک رہے ہوں۔


آج میں نے لیچی کے درخت کے نیچے جھاڑو لگایا۔ پرانے پتے جمع کیے اور انہیں کیاری کے کنارے رکھ دیا—قدرت کا ایک چھوٹا سا دائرہ مکمل ہو رہا تھا۔ پھر میں نے سبزیوں کی طرف رخ کیا۔ ٹماٹر کی بیل میں دو پھول نکل آئے تھے، اور مرچ کی پہلی کونپل زمین سے جھانک رہی تھی۔


اتنے میں بیٹے کا فون آیا، وہ کہہ رہا تھا:

"ابو، بچوں نے کہا ہے ہمیں دادا کے باغ میں جانا ہے۔"

دل خوشی سے بھر گیا۔ میں نے کہا:

"جلدی آ جاؤ، آج نئی بیلیں بھی لگانی ہیں۔"


دوپہر تک بچے آ گئے۔ ہر بچہ اپنی چھوٹی سی پانی کی بالٹی لیے آیا۔ میں نے سب کو الگ الگ پھولوں کی ذمہ داری دی۔ کوئی گلاب کو پانی دے رہا تھا، کوئی گیندے کو۔ میرے نواسے نے زور سے کہا:

"دادا! آج میں لیچی کے درخت پر جھولا باندھوں گا!"

میں نے مسکرا کر ہامی بھر لی۔


شام کو آنگن میں سب مل کر بیٹھے۔ بیوی نے گڑ والی چائے بنائی، اور بیٹی نے تازہ پودینے سے بھرا لسی کا جگ سامنے رکھا۔ سبزہ، بچے، سکون، اور شکر—زندگی مکمل لگ رہی تھی۔


رات کو سونے سے پہلے چھت پر گیا۔ آسمان صاف تھا۔ ستارے چمک رہے تھے، اور میں نے آسمان کی طرف دیکھ کر بس اتنا کہا:

"اے میرے اللہ، تیرا شکر ہے… تیرا بہت شکر ہے۔"

---


روزنامچہ — دن نمبر 3

تاریخ:3/5/2025 ہلکی بادلوں والی صبح


آج صبح آنکھ کھلی تو کھڑکی سے ہلکی ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی، بادل آسمان پر دھیرے دھیرے تیر رہے تھے، جیسے کوئی سفید کشتی آہستہ آہستہ خاموش سمندر پر چل رہی ہو۔


نماز کے بعد تھوڑی دیر صحن میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ درختوں سے شبنم ٹپک رہی تھی، اور پرندے چھوٹے چھوٹے نغمے گا رہے تھے۔ آج دل نے چاہا کہ خاموش رہوں، صرف فطرت کی زبان سنوں۔


پھولوں کو پانی دینے گیا، تو آج موتیا کے نئے شگوفے نکلے تھے۔ ان کی خوشبو اتنی لطیف تھی کہ لگتا تھا جیسے دعاؤں کی تاثیر ہوا میں گھل گئی ہو۔


میں نے اپنی مخصوص کرسی باغیچے کے کنارے رکھ لی، اور وہاں بیٹھ کر بیلوں کو دیکھتا رہا۔ دھنیا کے پتوں سے ہلکی خوشبو آ رہی تھی، اور پالک اب چھوٹے سبز گول گول پتے دکھانے لگی تھی۔


تبھی میرا سب سے چھوٹا پوتا ہاتھ میں چھوٹا سا کھلونا ٹرک لیے آیا اور کہنے لگا:

"دادا! میں یہ ٹرک آپ کے سبزیوں کے راستے پر چلاؤں؟"

میں نے ہنستے ہوئے کہا:

"چلا لو، لیکن کوئی پتا نہ ٹوٹے!"

اس نے پورے ادب سے اپنی ٹرک ایک پتلی کیاری کے کنارے پر چلائی، جیسے وہ بھی جانتا ہو کہ یہ زمین کتنی قیمتی ہے۔


دوپہر کو ہلکی پھوار شروع ہو گئی۔ سب اندر آ گئے۔ میں کھڑکی کے قریب بیٹھا ہوا بارش دیکھتا رہا۔ لیچی کے درخت پر بارش کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے، اور آم کی شاخوں سے پانی ٹپک ٹپک کر مٹی کو نم کر رہا تھا۔


بیوی نے بارش کے ساتھ بھنے ہوئے مکئی کے دانے اور ہلکی گرم چائے دی۔ کمرے میں بیٹھے ہوئے سب بچوں کے چہرے خوشی سے کھل رہے تھے، اور میں سوچ رہا تھا:

"یہ لمحے، یہی اصل زندگی ہے۔"


رات کو سونے سے پہلے میں نے اپنی ڈائری کھولی، اور بس ایک جملہ لکھا:

"جس نے شکر سیکھ لیا، اس نے جینا سیکھ لیا۔"

---

روزنامچہ — دن نمبر 4

تاریخ:4/5/2025 خاندانی دعوت کا دن


آج صبح آنکھ کھلی تو بیوی نے خوشی سے کہا:

"یاد ہے؟ آج سب بچے اور ان کے گھر والے دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں گے!"

دل خوش ہو گیا۔ کمرے سے نکل کر صحن میں آیا تو لگ رہا تھا جیسے درخت، پھول اور پودے بھی اس دن کی تیاری کر رہے ہوں۔ آم کے درخت کی شاخوں پر ہلکی سی دھوپ چھن چھن کر گر رہی تھی، اور موتیا کی خوشبو ہوا میں رچ گئی تھی۔


نماز کے بعد سب سے پہلے سبزیوں کی طرف گیا۔ کچھ دن پہلے جو ہری مرچیں نکلی تھیں، وہ اب پوری تیار تھیں۔ میں نے دو تازہ مرچیں توڑیں اور دھیان سے دیکھا—یہ وہی بیل تھی جو میں نے اپنی پوتی کے ہاتھوں لگوائی تھی۔ دل میں شکر کا جذبہ دو گنا ہو گیا۔


دوپہر کے قریب سب بچے آ گئے۔ پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں—گھر قہقہوں سے بھر گیا۔ ایک کہہ رہا تھا،

"دادا! میں نے کل گاجر کا پتا لگایا، بڑا ہو رہا ہے!"

تو دوسرا پیچھے سے بول پڑا:

"دادو کے ساتھ میں نے سالن بنایا، وہ بھی باغ کی لوکی سے!"


آنگن میں دستر خوان بچھایا گیا۔ بیوی نے سبزیوں کے ساتھ تازہ دال اور آلو کے پراٹھے بنائے۔ میری بیٹی نے کہا:

"امی ابو، اس گھر میں جو سکون ہے نا، وہ کہیں اور ممکن نہیں۔"

میں نے کہا:

"یہ سکون تم سب کے ساتھ ہے۔ اور اللہ کے کرم سے ہے۔"


کھانے کے بعد سب بچوں نے صحن میں کھیلنا شروع کر دیا۔ ایک طرف پھولوں کے درمیان چھپ چھپ کر رہے تھے، دوسری طرف جھولے پر ہنسی کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ میں آم کے درخت کے نیچے اپنی کرسی پر بیٹھا تسبیح کر رہا تھا، اور ہر دانے کے ساتھ دل کہہ رہا تھا:

"شکر الحمدللہ... شکر الحمدللہ..."


شام کو جب سب چلے گئے، صحن خاموش ہو گیا۔ صرف پرندے لوٹ رہے تھے۔ میں نے ایک بار پھر سبزے کو دیکھا، پھولوں پر ہاتھ پھیرا، اور سوچا:

"یہ زندگی ایک دعا کی قبولیت ہے۔"

---


روزنامچہ — دن نمبر 5

تاریخ:5/5/2025 بارش کا پہلا دن


آج صبح جب آنکھ کھلی، تو کھڑکی سے ہلکی ہلکی بارش کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے پردہ ہٹایا تو بوندیں شیشے پر آہستہ آہستہ برس رہی تھیں۔ آسمان پر ہلکے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے، اور فضا میں ایک عجیب سی خوشبو تھی—گیلی مٹی کی خوشبو، جیسے زمین بھی سجدے میں بھیگ گئی ہو۔


نماز کے بعد جیسے ہی صحن میں نکلا، بارش کی بوندیں میرے چہرے پر گریں۔ میں نے ہاتھ پھیلا کر انہیں محسوس کیا۔ آم کے درخت سے پانی کے قطرے ایک ایک کر کے گر رہے تھے، اور لیچی کے پتے جھوم رہے تھے۔ لگتا تھا جیسے درخت بھی خوشی منا رہے ہوں۔


آج میں نے ایک خاص کام سوچا ہوا تھا—بارش میں پودے لگانا۔

بیوی نے کہا:

"ابھی مٹی گیلی ہے، جڑیں جلدی جم جائیں گی۔"

میں نے بچوں کو آواز دی:

"آج ہم مل کر بارش میں نئے پھولوں کے پودے لگائیں گے!"


سب بچے بارش کے کوٹ اور چپل پہنے، خوشی سے دوڑتے ہوئے آ گئے۔ ہم سب نے کیاری میں نئے گلاب اور گیندے کے پودے لگائے۔ میرے نواسے نے مٹی میں ہاتھ ڈال کر کہا:

"دادا، یہ مٹی ٹھنڈی اور نرم ہے!"

میں نے جواب دیا:

"بیٹا، جب نیت نرمی سے ہو، تو مٹی بھی دعا بن جاتی ہے۔"


بارش میں بھیگتے ہوئے، ہنستے مسکراتے ہم سب ایک ایک پودا لگا رہے تھے۔ آسمان سے پانی، زمین سے مٹی، اور دل سے دعا—یہ لمحہ جنت کا ٹکڑا لگ رہا تھا۔


دوپہر کو سب نے گیلی چٹائی پر بیٹھ کر ابلے ہوئے مکئی، ہلکی ادرک والی چائے، اور گھر کی بنائی مٹھائی کھائی۔ بارش کے قطروں کی آواز پس منظر میں چلتی رہی، اور ہم سب کے دل مطمئن، پرسکون اور شکر گزار تھے۔


رات کو جب بارش رک گئی، میں باغیچے میں نکلا۔ ہر پودا دھلا ہوا، ہر پتا چمک رہا تھا۔ صحن میں نمی کی خوشبو تھی، اور آسمان بالکل صاف۔

میں نے رب کی طرف دیکھ کر کہا:

"اے اللہ، تیرے کرم کی بارش ہمیشہ میرے دل پر بھی برستی رہے۔"

---


روزنامچہ — دن نمبر 6 (آخری دن)

تاریخ:6/5/2025 ایک پُرسکون سہانی صبح


آج جب آنکھ کھلی، تو نہ کوئی خاص تہوار تھا، نہ مہمان، نہ بارش… بس ایک عام سا دن تھا۔ لیکن دل مطمئن تھا، سانسیں ہموار، اور روح گواہی دے رہی تھی کہ یہ "عام دن" بھی اللہ کا خاص انعام ہے۔


نماز کے بعد صحن میں نکلا تو فضا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ آم کے درخت کے نیچے شبنم جمع تھی، اور موتیا کے پھول کھلنے کو تھے۔ درختوں کی چھاؤں لمبی ہو رہی تھی، جیسے قدرت خود آرام کر رہی ہو۔


آج میں نے کچھ دیر تسبیح کی، پھر سبزیاں دیکھنے گیا۔ پالک کی پتیاں ہری بھری تھیں، اور ٹماٹر کی بیل پر پہلی سرخی نمودار ہو رہی تھی۔

"الحمدللہ"

زبان پر یہی کلمہ تھا۔


بیوی نے آج ناشتے میں تازہ مکھن اور چپاتی دی، اور آنگن میں ہی ایک چٹائی بچھا دی۔ ہم دونوں صحن میں ناشتہ کر رہے تھے کہ پوتی چپکے سے آئی، سر میرے کندھے سے لگایا اور کہا:

"دادا، آپ کی خوشبو میں باغ کی خوشبو آتی ہے۔"

میں ہنس پڑا… دل سے۔


شام کو سب بچے کھیل رہے تھے، کچھ پھولوں میں پانی دے رہے تھے، اور کچھ کیاریوں میں اپنا "چھوٹا باغ" بنا رہے تھے۔ ایک لمحے کو میں نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی—

ایک آشیانہ، جو خود بنایا

ایک باغ، جو مٹی سے اگایا

ایک خاندان، جو محبت سے جوڑا

اور ایک زندگی… جو شکر سے نبھائی۔


رات کو سب سونے چلے گئے۔ میں چھت پر گیا، آسمان پر بے شمار ستارے تھے۔ میں نے ہاتھ اٹھائے اور صرف اتنا کہا:


"یا اللہ، یہ سب تیرا فضل ہے۔ میں کچھ نہیں، مگر تیرا شکر گزار بندہ ہوں۔ میری آخری سانس تک یہ سکون باقی رکھنا… اور آخرت میں بھی ایسا ہی باغ، ایسی ہی چھاؤں، ایسا ہی چین عطا فرمانا۔ آمین۔"

---

ختم شد

Saturday, April 19, 2025

ایک بچپن جو کبھی بچپن نہ رہا

ایک بچپن جو کبھی بچپن نہ رہا

یہ کہانی ہے اُس لڑکے کی جو محض آٹھ برس کی عمر میں اپنے خاندان سے جدا کر دیا گیا۔ زندگی نے اُسے ماں کی گود اور باپ کی شفقت سے دور کر کے ایک مدرسے کے یتیم خانے میں ڈال دیا۔ وہاں نہ کھیلنے کی آزادی تھی، نہ مسکراہٹوں کا ساز؛ بس چند کتابیں، چند سخت مزاج معلم، اور تنہائی کی چپ چاپ گواہی دیتی ہوئی دیواریں۔


اس کمسن بچے کے معصوم ذہن میں کئی سوالات پلتے رہے:

"میں نے کیا قصور کیا تھا؟ ماں باپ مجھے کیوں چھوڑ گئے؟ کیا یہ میرا گھر ہے؟"

مگر کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا، اور وقت نے بھی اُسے جواب دینے کے بجائے اندر ہی اندر گھٹنے پر مجبور کر دیا۔


ادھورا تعلیمی سفر، مکمل ذمہ داریاں

مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب دل نے تنہائی سے بغاوت کی، تو اُس نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور گھر کی حالت سدھارنے کا عزم لیے وہاں سے نکل گیا۔ اُس نے یہ نہیں سوچا کہ وہ ابھی بچہ ہے، اُس نے صرف یہ سوچا کہ "میرا گھر تکلیف میں ہے، مجھے کچھ کرنا ہے۔"


وہ دہلی پہنچا، اور بچپن کی جگہ مشقت نے لے لی۔ کبھی اینٹ اٹھائی، کبھی ترکاری بیچی، کبھی مزدوری کی۔ زندگی نے اُس کے ننھے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر اُسے کدال اور پھاوڑے تھما دیے۔


دبئی کی ریت میں گم خواب

سترہ سال کی عمر میں اُس نے روزی کے بہتر مواقع کے لیے دبئی کا رخ کیا۔ وہاں کام کا ماحول سخت، زبان اجنبی، اور دل بالکل تنہا تھا۔ مگر اُس کے ارادے مضبوط تھے۔ دن بھر کی مشقت، تپتی دھوپ، اور شور زدہ مزدور کیمپوں کے درمیان وہ صرف ایک خیال کو سینے سے لگائے جیتا رہا:

"ایک دن میرا خاندان سکون میں ہو گا، میرے بچے خوشحال ہوں گے۔"


لیکن ہر بار جب وہ واپسی کا سوچتا، گھر سے یہی جواب آتا: "ابھی نہیں، حالات بہتر نہیں۔"


واپسی، مگر سب کچھ ویسا نہ رہا

جب کئی سال بعد کمپنی بند ہونے کے بعد وہ وطن واپس آیا، تو اُسے وہی گھر ملا مگر ویسا ماحول نہ ملا۔ بھائیوں کے درمیان محبت کی جگہ خودغرضی آ چکی تھی۔ والدین کے چہرے پر شفقت کے بجائے خاموشی چھا چکی تھی۔ دل ٹوٹا، مگر اُسے جُڑنے کی فرصت نہ ملی۔


کیونکہ اب دو معصوم چہروں کی ذمہ داری اُس کے کندھوں پر آ چکی تھی—اُس کے اپنے بچے۔


نئے خواب، نئی کوشش، پھر ایک نئی شکست

اُس نے تمام جمع پونجی اکٹھی کی، ایک چھوٹی سی کپڑوں کی دکان شروع کی۔ مگر حالات سازگار نہ ہوئے، دکان بند ہو گئی، اور اُسے دوبارہ سعودی عرب جانا پڑا۔ وہاں اس نے لگاتار آٹھ برس محنت کی۔ اس دوران دادی کا انتقال ہوا—وہی دادی جو اُس کے بچپن کی واحد محبت تھیں۔


پھر، جب وہ واپس آیا، تو خاندان میں جائیداد کا جھگڑا سامنے آ گیا۔ دل برداشتہ ہو کر اُس نے خود کو اور اپنے بچوں کو ایک طرف الگ کر لیا، اور پھر ایک بار دل پر پتھر رکھ کر سعودی عرب واپس چلا گیا۔


باپ کا سایہ اُٹھ گیا

کچھ ہی مہینوں بعد خبر آئی کہ اُس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ وہ چاہ کر بھی آخری دیدار نہ کر سکا۔ یہ صدمہ اُس کے دل پر ایسا نقش چھوڑ گیا جو عمر بھر مٹ نہ سکا۔


آخری دَور — بیماری اور دائمی امید

اب اس کی عمر پچاس کو چھو رہی تھی، بلڈ پریشر، شوگر، آنکھوں کی روشنی کی کمی اور دوائیوں کا انبار اُس کی روزمرہ کی زندگی بن چکا تھا۔ مگر اُس کا حوصلہ قائم رہا۔ اُس نے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کی ٹھان لی۔ بیٹی نے میٹرک میں اچھے نمبر لیے، بیٹے نے انٹر میں۔ اُس نے خواب دیکھے کہ ایک ڈاکٹر اور ایک انجینئر گھر میں ہوں گے۔


مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ داخلہ ٹیسٹ میں بار بار ناکامی ہوئی۔ آخرکار اُس نے قرض لے کر دونوں کو نجی کالجوں میں داخل کروایا۔ خود کم کھایا، دوائیں چھوڑی، مگر بچوں کی فیس وقت پر دی۔


پانچ سال جو کبھی ختم نہ ہوئے

وہ ہر بار یہ سوچتا: "اب کی بار شاید قسمت بدل جائے۔ اگلے پانچ سال میں سب کچھ سنور جائے گا۔"

مگر وہ پانچ سال کبھی مکمل ہی نہ ہوئے۔ اور وہ اب بھی اسی امید پر جی رہا ہے، کہ کل بہتر ہو گا۔


اختتام — وہ جو خود کو بھول گیا

یہ کہانی ایک شخص کی نہیں، ہزاروں دیارِ غیر میں پسینے بہانے والے باپوں کی کہانی ہے، جو دن رات اپنے خاندان کے لیے جی تو لیتے ہیں، مگر خود کے لیے کبھی جیتے نہیں۔

جن کی میتیں ایک تابوت میں بند ہو کر وطن واپس آتی ہیں، اور اُن کے خواب—بے کفن، بے آواز—کبھی کے دفن ہو چکے ہوتے ہیں۔


ختم شد۔---

خواب


تحریر: ناصرصديقي

شہر کے ایک خاموش گوشے میں، جہاں گلیوں کی دیواریں بھی غربت کی تصویریں سنبھالے کھڑی ہیں، وہیں ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں ریاض احمد اپنی زندگی کے دن گن رہا ہے۔ چہرے پر وقت کی لکیریں، ہاتھوں میں محنت کے زخم، اور آنکھوں میں وہ خواب جو اب تک تعبیر سے محروم ہیں۔


ریاض احمد ایک متوسط طبقے کا فرد ہے۔ نہ زیادہ پڑھے لکھے، نہ زیادہ وسائل کے مالک۔ لیکن ان کی سوچ، ان کی امیدیں، اور ان کا دل بہت بڑا ہے۔ اپنی جوانی سے لے کر بڑھاپے تک، انہوں نے بس ایک ہی خواب دیکھا—کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب ہوں، خوددار زندگی گزاریں، اور وہ فخر سے کہہ سکیں: ’’یہ ہمارے ابو کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘


ریاض نے ہر دن ایک نئی مشقت کے ساتھ گزارا۔ صبح سویرے مزدوری کے لیے نکلتے، شام کو پسینے سے شرابور واپس آتے۔ فاقے بھی برداشت کیے، ضرورتیں بھی ماریں، لیکن بچوں کی فیس، کتابیں، یونیفارم، ہر چیز وقت پر فراہم کی۔ ان کی زندگی کا مرکز و محور صرف ایک چیز تھی: بچوں کا بہتر مستقبل۔


لیکن قسمت ہمیشہ محنت کا ساتھ نہیں دیتی۔


سال در سال، تعلیمی نتائج آتے گئے، مگر ریاض کے چہرے پر وہ مسکراہٹ کبھی نہ آ سکی جس کا خواب انہوں نے برسوں سے دیکھا تھا۔

’’ابو، اس بار تھوڑا سا اور وقت دے دیں، اگلی بار اچھا کروں گا۔‘‘

یہ جملہ ایک عرصے سے ان کے کانوں میں گونج رہا تھا، جیسے کسی پرانی ریکارڈڈ ٹیپ کی آواز ہو، جو بار بار چلائی جا رہی ہو۔


لوگ اکثر کہتے ہیں کہ والدین کو بچوں کے نتائج پر کچھ نہیں کہنا چاہیے، کیونکہ ناکامی صرف امتحان میں نہیں، زندگی کے کئی پہلوؤں میں ہو سکتی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ایک باپ جو صبح سے شام تک پسینے کی فصل اگاتا ہے، وہ صرف نمبروں کی نہیں، امیدوں کی فصل کاشت کرتا ہے۔


ریاض کی بیوی اکثر اسے دلاسہ دیتی، ’’اللہ کرم کرے گا، بس صبر رکھو۔‘‘

اور وہ، ہر بار یہی سوچ کر چپ ہو جاتا کہ شاید اگلے سال... شاید اگلی کوشش... شاید اگلا امتحان...


لیکن زندگی ہمیشہ ’’شاید‘‘ پر نہیں چلتی۔


اب ریاض احمد ساٹھ برس کا ہو چکا ہے۔ کمر جھک گئی ہے، بینائی کمزور ہو گئی ہے، دل میں اب پہلے جیسا جوش نہیں۔ لیکن آنکھوں میں خواب اب بھی زندہ ہیں—ادھورے، بکھرے ہوئے، ٹوٹے ہوئے۔

بچے اب جوان ہو چکے ہیں، مگر نہ کسی کے پاس مستقل نوکری ہے، نہ کوئی واضح راستہ۔ ہر ایک زندگی کے بھنور میں الجھا ہوا ہے، اور ریاض کے سوالوں کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔


کبھی وہ چپکے سے کمرے میں بیٹھ کر بچوں کی پرانی کاپیاں نکالتا ہے، ان میں لکھی ہوئی بے ربط لائنوں کو دیکھتا ہے، اور خود سے سوال کرتا ہے:

’’کہاں غلطی ہوئی؟ کیا میرے اخلاص میں کمی تھی؟ کیا میری دعاؤں میں تاثیر نہیں رہی؟‘‘


ایسے میں وہ رات آتی ہے جب ریاض خاموشی سے اپنی چارپائی پر لیٹتا ہے، اور خوابوں کی دنیا میں اتر جاتا ہے—اس امید کے ساتھ کہ شاید کسی اور جہاں میں، کوئی اور وقت ایسا ہوگا جہاں اس کے خواب مکمل ہوں گے۔


وہ خواب، جو دنیا نے نہیں دیکھے، لیکن جس کے لیے اس نے ساری زندگی صرف کر دی۔


ایسا خواب، جو اس کے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا، اور لوگ بس یہ کہیں گے:

’’ایک بوڑھا، جو زندگی بھر بس امید پر جیتا رہا۔‘‘

ایک ادھورا خواب

 

عنوان: ایک ادھورا خواب

رمضان کی ایک پرسکون رات تھی۔ باہر ہوائیں مدھم مدھم چل رہی تھیں، لیکن ریاض احمد کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ وہ ایک درمیانے طبقے کا سادہ سا آدمی تھا، جو ساری زندگی محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی امید باندھتا رہا۔ ہر دن، ہر رات بس یہی سوچ کر گزار دی کہ "آج اگر میں پسینے میں شرابور ہوں تو کیا، کل میرے بچے کامیاب ہو جائیں گے، میری تھکن رائیگاں نہیں جائے گی۔"

ریاض احمد کے خواب کچھ بڑے نہ تھے، وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر کسی عزت والی نوکری پر لگ جائیں، اور زندگی میں وہ تنگدستی نہ دیکھیں جو اس نے دیکھی۔

لیکن سالوں کا وہ انتظار، جو اس نے ایک روشن کل کے لیے کیا تھا، کبھی پورا نہ ہو سکا۔

بچوں کی پڑھائی کے لیے اس نے اپنے کپڑے بیچے، کبھی دو وقت کی روٹی چھوڑی، کبھی خود فاقے کیے، لیکن بچوں کو فیس، کتابیں، اور بہتر تعلیم دی۔ وہ ہر نتیجے کے دن دل تھام کر بیٹھ جاتا، یہ سوچ کر کہ شاید اب کچھ خوش خبری ملے گی۔ مگر ہر بار اس کے خواب چکنا چور ہو جاتے۔

"ابو، بس ایک بار اور موقع دو، اس بار اچھا کروں گا۔"
یہ جملہ وہ کتنی بار سن چکا تھا، اب گننا مشکل ہو گیا تھا۔

لوگ کہتے ہیں کہ والدین کو بچوں کے نتیجوں پر کچھ نہیں کہنا چاہیے، ان کا حوصلہ نہیں توڑنا چاہیے۔ لیکن اس دل کا کیا جو برسوں سے امیدیں باندھ کر بیٹھا ہے؟ اس قربانی کا کیا جو دن رات کی مشقت کے بعد دی گئی تھی؟

ریاض احمد اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ ہاتھوں میں رعشہ ہے، کمر جھک گئی ہے، لیکن دل ابھی بھی وہی خواب دیکھتا ہے—ایک روشن صبح، جس کا سورج شاید اب صرف اس کی قبر کی مٹی پر طلوع ہوگا۔

وہ خواب، جو اس نے اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے دیکھا تھا، اب اس کے ساتھ دفن ہو جائے گا۔ اور دنیا یہ سمجھے گی کہ وہ ایک عام سا آدمی تھا، جس کی زندگی میں کچھ خاص نہ تھا۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ایسا سپاہی تھا، جو بغیر ہتھیار کے، بغیر آرام کیے، زندگی کی جنگ لڑتا رہا—بس اس امید پر کہ کبھی تو اس کے دن بدلیں گے۔

لیکن کچھ انتظار... کبھی ختم نہیں ہوتے۔

Thursday, March 20, 2025

ہندوستان کی تہذیب


ہندوستان دنیا کے قدیم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جس کی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتیں، اور زبانیں یکجا ہو کر ایک منفرد رنگ پیش کرتی ہیں۔ ہندوستان کی تہذیب محبت، رواداری، بھائی چارے اور ہم آہنگی پر مبنی ہے، جو صدیوں سے یہاں کے باشندوں کی پہچان رہی ہے۔

قدیم ہندوستانی تہذیب

ہندوستان کی تہذیب کا آغاز وادیٔ سندھ کی تہذیب (Harappan Civilization) سے ہوتا ہے، جو 2500 قبل مسیح میں اپنے عروج پر تھی۔ اس تہذیب میں شہری منصوبہ بندی، تجارت، اور فنون لطیفہ کو خاص مقام حاصل تھا۔ اس کے بعد ویدک دور آیا، جس میں ہندو دھرم کے بنیادی اصول متعین کیے گئے۔ بدھ مت اور جین مت بھی اسی سرزمین پر پیدا ہوئے، جنہوں نے امن اور عدم تشدد کا پیغام دیا۔

اسلامی تہذیب کا اثر

ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کا پیغام ہندوستان تک پہنچا، اور بعد میں مغل سلطنت کے دور میں اسلامی تہذیب نے ہندوستانی ثقافت کو مزید نکھار بخشا۔ مغل دور میں فن تعمیر، ادب، موسیقی اور مصوری میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ تاج محل، لال قلعہ اور قطب مینار جیسے تاریخی مقامات ہندوستانی اور اسلامی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج ہیں۔

ثقافت اور روایات

ہندوستانی تہذیب اپنی ثقافت اور روایات کی وجہ سے دنیا میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہولی، دیوالی، عید، بیساکھی اور کرسمس جیسی تقریبات مذہبی ہم آہنگی کا ثبوت ہیں۔

لباس، کھانے پینے کی عادات، اور رہن سہن میں بھی ہندوستانی تہذیب کی جھلک نظر آتی ہے۔ ساڑھی، شلوار قمیص، دھوتی اور شیروانی جیسے ملبوسات یہاں کے روایتی لباس ہیں، جب کہ ہندوستانی کھانے اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

زبان اور ادب

ہندوستانی تہذیب کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہاں کی زبانیں اور ادب ہیں۔ سنسکرت، ہندی، اردو، تامل، تلگو، اور دیگر کئی زبانوں میں شاندار ادب تخلیق کیا گیا ہے۔ اردو اور ہندی شاعری، خاص طور پر میر، غالب، کبیر، اور ٹیگور جیسے شاعروں نے ہندوستانی تہذیب کو مالا مال کیا ہے۔

ہندوستانی تہذیب کی انفرادیت

ہندوستان کی تہذیب ہمیشہ سے محبت، اخوت، اور انسانی اقدار کی علمبردار رہی ہے۔ یہاں کی سرزمین نے مختلف قوموں اور ثقافتوں کو اپنایا اور انہیں ایک نئی شناخت دی۔ آج بھی ہندوستانی تہذیب اپنی قدیم روایات کے ساتھ جدید ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

نتیجہ

ہندوستان کی تہذیب ایک خوبصورت گلدستہ ہے، جس میں مختلف رنگوں کے پھول اپنی خوشبو بکھیر رہے ہیں۔ اس کی اصل طاقت اس کی رواداری، ہم آہنگی، اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی تہذیب دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔