روزنامچہ — دن نمبر 1
تاریخ:1/5/2025 ایک روشن صبح
آج صبح فجر سے کچھ دیر پہلے آنکھ کھلی۔ کھڑکی سے ہلکی ہوا اندر آ رہی تھی، اور باہر پرندوں کی مدھم آواز سنائی دے رہی تھی۔ بستر سے اٹھا، وضو کیا، اور نماز پڑھی۔ سجدے میں آج کچھ دیر زیادہ ٹھہر گیا۔ آنکھوں میں نمی تھی… خوشی کی۔ جو مانگا تھا، وہ رب نے دے دیا۔
نماز کے بعد صحن میں نکلا تو فضا میں تازگی تھی۔ آم کے درخت کی شاخوں پر اوس کے قطرے موتیوں جیسے لگ رہے تھے۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر ایک پتا چھوا، جیسے رب کا لمس محسوس ہو رہا ہو۔
پھولوں کی کیاری کی طرف گیا—گلاب کھلا ہوا تھا، موتیا کی خوشبو دور تک پھیل رہی تھی۔ پانی کا کین اٹھایا اور ایک ایک پودے کو آہستہ آہستہ پانی دیا۔ ہر پھول کی جڑ میں ایک دعا رکھی۔
پچھواڑے میں گیا تو سبزیاں تر و تازہ نظر آئیں۔ پالک کی پتیوں پر شبنم کا ہلکا ہلکا لمس تھا۔ آج تھوڑی گھاس نکالی، اور نئی دھنیا کی بیل کو سہارا دیا۔ ہاتھ مٹی سے بھر گئے، دل نور سے۔
تبھی پیچھے سے میری پوتی کی آواز آئی:
"دادا! دادا! میں نے بھی پودا لگانا ہے!"
میں نے ہنستے ہوئے اسے پاس بلایا، بیج اس کے ہاتھ میں رکھا، اور کہا:
"بیٹا، زندگی ایسے ہی اگتی ہے—محنت، صبر اور دعا سے۔"
دوپہر کو سائے لمبے ہو گئے۔ میں آم کے درخت کے نیچے چٹائی پر بیٹھا، ایک کپ چائے، اور ہاتھ میں تسبیح۔ بیوی میرے پاس آ کر بیٹھ گئی، ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
ہم دونوں جانتے تھے، یہ وہ دن ہے جس کی دعائیں ہم نے برسوں پہلے مانگی تھیں۔
---
روزنامچہ — دن نمبر 2
تاریخ:2/5/2025 ایک خوشگوار سہ پہر
آج صبح ذرا تاخیر سے آنکھ کھلی، مگر سکون ویسا ہی تھا جیسے کل۔ نماز کے بعد تھوڑا دیر صحن میں بیٹھا رہا۔ درختوں سے گرتی ہوئی ٹھنڈی چھاؤں نے دل کو چھو لیا۔ آم کے درخت پر چند ننھے بور نظر آئے، جیسے چھوٹے خواب شاخوں سے جھانک رہے ہوں۔
آج میں نے لیچی کے درخت کے نیچے جھاڑو لگایا۔ پرانے پتے جمع کیے اور انہیں کیاری کے کنارے رکھ دیا—قدرت کا ایک چھوٹا سا دائرہ مکمل ہو رہا تھا۔ پھر میں نے سبزیوں کی طرف رخ کیا۔ ٹماٹر کی بیل میں دو پھول نکل آئے تھے، اور مرچ کی پہلی کونپل زمین سے جھانک رہی تھی۔
اتنے میں بیٹے کا فون آیا، وہ کہہ رہا تھا:
"ابو، بچوں نے کہا ہے ہمیں دادا کے باغ میں جانا ہے۔"
دل خوشی سے بھر گیا۔ میں نے کہا:
"جلدی آ جاؤ، آج نئی بیلیں بھی لگانی ہیں۔"
دوپہر تک بچے آ گئے۔ ہر بچہ اپنی چھوٹی سی پانی کی بالٹی لیے آیا۔ میں نے سب کو الگ الگ پھولوں کی ذمہ داری دی۔ کوئی گلاب کو پانی دے رہا تھا، کوئی گیندے کو۔ میرے نواسے نے زور سے کہا:
"دادا! آج میں لیچی کے درخت پر جھولا باندھوں گا!"
میں نے مسکرا کر ہامی بھر لی۔
شام کو آنگن میں سب مل کر بیٹھے۔ بیوی نے گڑ والی چائے بنائی، اور بیٹی نے تازہ پودینے سے بھرا لسی کا جگ سامنے رکھا۔ سبزہ، بچے، سکون، اور شکر—زندگی مکمل لگ رہی تھی۔
رات کو سونے سے پہلے چھت پر گیا۔ آسمان صاف تھا۔ ستارے چمک رہے تھے، اور میں نے آسمان کی طرف دیکھ کر بس اتنا کہا:
"اے میرے اللہ، تیرا شکر ہے… تیرا بہت شکر ہے۔"
---
روزنامچہ — دن نمبر 3
تاریخ:3/5/2025 ہلکی بادلوں والی صبح
آج صبح آنکھ کھلی تو کھڑکی سے ہلکی ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی، بادل آسمان پر دھیرے دھیرے تیر رہے تھے، جیسے کوئی سفید کشتی آہستہ آہستہ خاموش سمندر پر چل رہی ہو۔
نماز کے بعد تھوڑی دیر صحن میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ درختوں سے شبنم ٹپک رہی تھی، اور پرندے چھوٹے چھوٹے نغمے گا رہے تھے۔ آج دل نے چاہا کہ خاموش رہوں، صرف فطرت کی زبان سنوں۔
پھولوں کو پانی دینے گیا، تو آج موتیا کے نئے شگوفے نکلے تھے۔ ان کی خوشبو اتنی لطیف تھی کہ لگتا تھا جیسے دعاؤں کی تاثیر ہوا میں گھل گئی ہو۔
میں نے اپنی مخصوص کرسی باغیچے کے کنارے رکھ لی، اور وہاں بیٹھ کر بیلوں کو دیکھتا رہا۔ دھنیا کے پتوں سے ہلکی خوشبو آ رہی تھی، اور پالک اب چھوٹے سبز گول گول پتے دکھانے لگی تھی۔
تبھی میرا سب سے چھوٹا پوتا ہاتھ میں چھوٹا سا کھلونا ٹرک لیے آیا اور کہنے لگا:
"دادا! میں یہ ٹرک آپ کے سبزیوں کے راستے پر چلاؤں؟"
میں نے ہنستے ہوئے کہا:
"چلا لو، لیکن کوئی پتا نہ ٹوٹے!"
اس نے پورے ادب سے اپنی ٹرک ایک پتلی کیاری کے کنارے پر چلائی، جیسے وہ بھی جانتا ہو کہ یہ زمین کتنی قیمتی ہے۔
دوپہر کو ہلکی پھوار شروع ہو گئی۔ سب اندر آ گئے۔ میں کھڑکی کے قریب بیٹھا ہوا بارش دیکھتا رہا۔ لیچی کے درخت پر بارش کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے، اور آم کی شاخوں سے پانی ٹپک ٹپک کر مٹی کو نم کر رہا تھا۔
بیوی نے بارش کے ساتھ بھنے ہوئے مکئی کے دانے اور ہلکی گرم چائے دی۔ کمرے میں بیٹھے ہوئے سب بچوں کے چہرے خوشی سے کھل رہے تھے، اور میں سوچ رہا تھا:
"یہ لمحے، یہی اصل زندگی ہے۔"
رات کو سونے سے پہلے میں نے اپنی ڈائری کھولی، اور بس ایک جملہ لکھا:
"جس نے شکر سیکھ لیا، اس نے جینا سیکھ لیا۔"
---
روزنامچہ — دن نمبر 4
تاریخ:4/5/2025 خاندانی دعوت کا دن
آج صبح آنکھ کھلی تو بیوی نے خوشی سے کہا:
"یاد ہے؟ آج سب بچے اور ان کے گھر والے دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں گے!"
دل خوش ہو گیا۔ کمرے سے نکل کر صحن میں آیا تو لگ رہا تھا جیسے درخت، پھول اور پودے بھی اس دن کی تیاری کر رہے ہوں۔ آم کے درخت کی شاخوں پر ہلکی سی دھوپ چھن چھن کر گر رہی تھی، اور موتیا کی خوشبو ہوا میں رچ گئی تھی۔
نماز کے بعد سب سے پہلے سبزیوں کی طرف گیا۔ کچھ دن پہلے جو ہری مرچیں نکلی تھیں، وہ اب پوری تیار تھیں۔ میں نے دو تازہ مرچیں توڑیں اور دھیان سے دیکھا—یہ وہی بیل تھی جو میں نے اپنی پوتی کے ہاتھوں لگوائی تھی۔ دل میں شکر کا جذبہ دو گنا ہو گیا۔
دوپہر کے قریب سب بچے آ گئے۔ پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں—گھر قہقہوں سے بھر گیا۔ ایک کہہ رہا تھا،
"دادا! میں نے کل گاجر کا پتا لگایا، بڑا ہو رہا ہے!"
تو دوسرا پیچھے سے بول پڑا:
"دادو کے ساتھ میں نے سالن بنایا، وہ بھی باغ کی لوکی سے!"
آنگن میں دستر خوان بچھایا گیا۔ بیوی نے سبزیوں کے ساتھ تازہ دال اور آلو کے پراٹھے بنائے۔ میری بیٹی نے کہا:
"امی ابو، اس گھر میں جو سکون ہے نا، وہ کہیں اور ممکن نہیں۔"
میں نے کہا:
"یہ سکون تم سب کے ساتھ ہے۔ اور اللہ کے کرم سے ہے۔"
کھانے کے بعد سب بچوں نے صحن میں کھیلنا شروع کر دیا۔ ایک طرف پھولوں کے درمیان چھپ چھپ کر رہے تھے، دوسری طرف جھولے پر ہنسی کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ میں آم کے درخت کے نیچے اپنی کرسی پر بیٹھا تسبیح کر رہا تھا، اور ہر دانے کے ساتھ دل کہہ رہا تھا:
"شکر الحمدللہ... شکر الحمدللہ..."
شام کو جب سب چلے گئے، صحن خاموش ہو گیا۔ صرف پرندے لوٹ رہے تھے۔ میں نے ایک بار پھر سبزے کو دیکھا، پھولوں پر ہاتھ پھیرا، اور سوچا:
"یہ زندگی ایک دعا کی قبولیت ہے۔"
---
روزنامچہ — دن نمبر 5
تاریخ:5/5/2025 بارش کا پہلا دن
آج صبح جب آنکھ کھلی، تو کھڑکی سے ہلکی ہلکی بارش کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے پردہ ہٹایا تو بوندیں شیشے پر آہستہ آہستہ برس رہی تھیں۔ آسمان پر ہلکے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے، اور فضا میں ایک عجیب سی خوشبو تھی—گیلی مٹی کی خوشبو، جیسے زمین بھی سجدے میں بھیگ گئی ہو۔
نماز کے بعد جیسے ہی صحن میں نکلا، بارش کی بوندیں میرے چہرے پر گریں۔ میں نے ہاتھ پھیلا کر انہیں محسوس کیا۔ آم کے درخت سے پانی کے قطرے ایک ایک کر کے گر رہے تھے، اور لیچی کے پتے جھوم رہے تھے۔ لگتا تھا جیسے درخت بھی خوشی منا رہے ہوں۔
آج میں نے ایک خاص کام سوچا ہوا تھا—بارش میں پودے لگانا۔
بیوی نے کہا:
"ابھی مٹی گیلی ہے، جڑیں جلدی جم جائیں گی۔"
میں نے بچوں کو آواز دی:
"آج ہم مل کر بارش میں نئے پھولوں کے پودے لگائیں گے!"
سب بچے بارش کے کوٹ اور چپل پہنے، خوشی سے دوڑتے ہوئے آ گئے۔ ہم سب نے کیاری میں نئے گلاب اور گیندے کے پودے لگائے۔ میرے نواسے نے مٹی میں ہاتھ ڈال کر کہا:
"دادا، یہ مٹی ٹھنڈی اور نرم ہے!"
میں نے جواب دیا:
"بیٹا، جب نیت نرمی سے ہو، تو مٹی بھی دعا بن جاتی ہے۔"
بارش میں بھیگتے ہوئے، ہنستے مسکراتے ہم سب ایک ایک پودا لگا رہے تھے۔ آسمان سے پانی، زمین سے مٹی، اور دل سے دعا—یہ لمحہ جنت کا ٹکڑا لگ رہا تھا۔
دوپہر کو سب نے گیلی چٹائی پر بیٹھ کر ابلے ہوئے مکئی، ہلکی ادرک والی چائے، اور گھر کی بنائی مٹھائی کھائی۔ بارش کے قطروں کی آواز پس منظر میں چلتی رہی، اور ہم سب کے دل مطمئن، پرسکون اور شکر گزار تھے۔
رات کو جب بارش رک گئی، میں باغیچے میں نکلا۔ ہر پودا دھلا ہوا، ہر پتا چمک رہا تھا۔ صحن میں نمی کی خوشبو تھی، اور آسمان بالکل صاف۔
میں نے رب کی طرف دیکھ کر کہا:
"اے اللہ، تیرے کرم کی بارش ہمیشہ میرے دل پر بھی برستی رہے۔"
---
روزنامچہ — دن نمبر 6 (آخری دن)
تاریخ:6/5/2025 ایک پُرسکون سہانی صبح
آج جب آنکھ کھلی، تو نہ کوئی خاص تہوار تھا، نہ مہمان، نہ بارش… بس ایک عام سا دن تھا۔ لیکن دل مطمئن تھا، سانسیں ہموار، اور روح گواہی دے رہی تھی کہ یہ "عام دن" بھی اللہ کا خاص انعام ہے۔
نماز کے بعد صحن میں نکلا تو فضا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ آم کے درخت کے نیچے شبنم جمع تھی، اور موتیا کے پھول کھلنے کو تھے۔ درختوں کی چھاؤں لمبی ہو رہی تھی، جیسے قدرت خود آرام کر رہی ہو۔
آج میں نے کچھ دیر تسبیح کی، پھر سبزیاں دیکھنے گیا۔ پالک کی پتیاں ہری بھری تھیں، اور ٹماٹر کی بیل پر پہلی سرخی نمودار ہو رہی تھی۔
"الحمدللہ"
زبان پر یہی کلمہ تھا۔
بیوی نے آج ناشتے میں تازہ مکھن اور چپاتی دی، اور آنگن میں ہی ایک چٹائی بچھا دی۔ ہم دونوں صحن میں ناشتہ کر رہے تھے کہ پوتی چپکے سے آئی، سر میرے کندھے سے لگایا اور کہا:
"دادا، آپ کی خوشبو میں باغ کی خوشبو آتی ہے۔"
میں ہنس پڑا… دل سے۔
شام کو سب بچے کھیل رہے تھے، کچھ پھولوں میں پانی دے رہے تھے، اور کچھ کیاریوں میں اپنا "چھوٹا باغ" بنا رہے تھے۔ ایک لمحے کو میں نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی—
ایک آشیانہ، جو خود بنایا
ایک باغ، جو مٹی سے اگایا
ایک خاندان، جو محبت سے جوڑا
اور ایک زندگی… جو شکر سے نبھائی۔
رات کو سب سونے چلے گئے۔ میں چھت پر گیا، آسمان پر بے شمار ستارے تھے۔ میں نے ہاتھ اٹھائے اور صرف اتنا کہا:
"یا اللہ، یہ سب تیرا فضل ہے۔ میں کچھ نہیں، مگر تیرا شکر گزار بندہ ہوں۔ میری آخری سانس تک یہ سکون باقی رکھنا… اور آخرت میں بھی ایسا ہی باغ، ایسی ہی چھاؤں، ایسا ہی چین عطا فرمانا۔ آمین۔"
---
ختم شد
