I'm a Product

Friday, January 9, 2026

باپ کی امانت

بیانیہ

[اسٹیج پر ہلکی روشنی۔ پس منظر میں آہستہ سی تلاوت:]

وَوَصَّيْنَا الإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا

(ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کی ہے)



---


حصہ 1: بیٹی کی پیدائش – رحمت کا آنا


راوی:

جب اُس گھر میں بیٹی پیدا ہوئی

تو لوگوں نے رسموں کا حساب لگایا

اور باپ نے حدیث یاد کی۔


نبی ﷺ نے فرمایا:

"جس کے ہاں بیٹیاں ہوں، اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گی"

(مسلم)


باپ نے بچی کو گود میں لیا

کان میں اذان دی

اور دل میں دعا رکھی:


“یا اللہ!

یہ تیری امانت ہے

مجھے اس امانت کا حق ادا کرنے والا بنا دے۔”



---


حصہ 2: بچپن – تربیت عبادت ہے


بیٹی نے چلنا سیکھا

تو باپ نے صبر سیکھا۔


گرتی تو باپ اُٹھاتا

روتی تو باپ خاموشی سے سینے سے لگا لیتا۔


وہ جانتا تھا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"کوئی باپ اپنی اولاد کو اچھے اخلاق سے بہتر تحفہ نہیں دے سکتا"

(ترمذی)


اس لیے اس نے بیٹی کو صرف کھلونے نہیں دیے

دعائیں دیں

ادب دیا

اور اللہ پر بھروسہ سکھایا۔



---


حصہ 3: تعلیم – علم فرض ہے


جب بیٹی نے کتاب اٹھائی

تو باپ نے فخر سے کہا:


نبی ﷺ کا فرمان ہے:

"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے"

(ابن ماجہ)


کبھی فیس کم تھی

کبھی حالات سخت

مگر نیت پختہ تھی۔


باپ رات کو ہاتھ اٹھا کر کہتا:

“یا اللہ!

میری بیٹی کو ایسا علم دے

جو اسے تیرے قریب کرے

اور دنیا میں باوقار بنائے۔”



---


حصہ 4: جوانی – حیا اور حدود


وقت بدلا

بیٹی بڑی ہوئی

دنیا کے رنگ دیکھے۔


باپ نے سختی نہیں کی

حدود سمجھائیں۔


کہا:

“بیٹی،

اسلام ہمیں قید نہیں کرتا

وہ ہمیں محفوظ کرتا ہے۔


نبی ﷺ نے فرمایا:

"حیا ایمان کا حصہ ہے"

(بخاری)


اپنی حیا کو اپنی طاقت بنانا

کمزوری نہیں۔”



---


حصہ 5: شادی – امانت کی منتقلی


پھر وہ دن آیا

جب نکاح کی بات چلی۔


باپ نے حدیث پڑھی:

"جب تمہارے پاس وہ شخص رشتہ لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو، تو اس سے نکاح کر دو"

(ترمذی)


وہ دولت نہیں دیکھ رہا تھا

وہ دین دیکھ رہا تھا

کردار دیکھ رہا تھا۔


کہا:

“میری بیٹی کو شوہر چاہیے

حاکم نہیں۔”



---


حصہ 6: شادی سے پہلے باپ کی نصیحت


ایک رات

باپ نے بیٹی کو پاس بٹھایا۔


کہا:

“بیٹی،

نکاح عبادت ہے

اور عبادت صبر مانگتی ہے۔


شوہر کی نافرمانی نہ کرنا

مگر اللہ کی نافرمانی میں

کسی کی بات نہ ماننا۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اگر میں اللہ کے سوا کسی کو سجدے کا حکم دیتا، تو بیوی کو شوہر کے لیے دیتا"

(ترمذی)


مگر یاد رکھنا

ظلم پر خاموشی صبر نہیں ہوتی۔”



---


حصہ 7: گھریلو زندگی – سکون کا راز


باپ نے کہا:

“بیٹی،

اللہ نے نکاح کا مقصد بتایا ہے:


لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا

(تاکہ تم سکون پاؤ)


اگر سکون نہ رہے

تو بات کرو

دعا کرو

اور ضد کو چھوڑ دو۔


غصے میں نبی ﷺ کی سنت یاد رکھنا:

وضو

خاموشی

اور جگہ بدل لینا۔”



---


حصہ 8: آزمائش کے دن


باپ کی آواز بھاری ہو گئی۔


کہا:

“زندگی میں آزمائشیں آئیں گی

کیونکہ اللہ فرماتا ہے:


وَلَنَبْلُوَنَّكُم

(ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے)


بیماری

تنگی

اولاد میں تاخیر


ان دنوں ایک دوسرے کو تھامنا

الزام نہ لگانا

کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”



---


حصہ 9: آخری الفاظ


باپ جانتا تھا

وہ رخصتی نہیں دیکھ پائے گا۔


اس نے تسبیح بیٹی کو دی

اور کہا:


“جب دل گھبرا جائے

تو یہ پڑھنا:


رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي


اور یاد رکھنا

باپ کی دعا

اولاد کے حق میں

رد نہیں ہوتی۔”



---


حصہ 10: رخصتی


شادی کا دن آیا

باپ کی تصویر سجی تھی

مگر اس کی تربیت زندہ تھی۔


بیٹی نے دل میں کہا:

“ابو،

آپ نے مجھے صرف بیاہ نہیں دیا

آپ نے مجھے ایمان دیا ہے۔”



---


اختتام


راوی:

یہ کہانی ایک باپ کی نہیں

یہ امانت کی کہانی ہے۔


بیٹیاں بوجھ نہیں

رحمت ہوتی ہیں

اور باپ

ان رحمتوں کے نگہبان۔


آخری جملہ:

"جو باپ اپنی بیٹی کو دین دے جائے،

وہ کبھی مرتا نہیں۔"

آخری دعا

[راوی آہستہ آواز میں، دونوں ہاتھ اٹھے ہوئے]

اے اللہ!

یہ بیٹی تیری امانت ہے

جسے ایک باپ نے

صبر، محبت اور ایمان کے ساتھ پالا۔

اے ربِ کریم!

اس کے نکاح کو سکون بنا دے،

اس کے گھر کو محبت سے بھر دے،

اس کے شوہر کو اس کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے

اور اسے اپنے شوہر کے لیے رحمت۔

یا اللہ!

ان دونوں کے درمیان

وہ محبت ڈال دے

جس کا ذکر تُو نے قرآن میں فرمایا،

اور ان کے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے نرم فرما دے۔

اے اللہ!

اگر کبھی زندگی میں تنگی آئے

تو صبر عطا فرما،

اگر خوشی آئے

تو شکر کرنے والا بنا دے۔

یا رب!

اس بیٹی کو

اپنی عزت کی حفاظت کرنے والی،

اپنے دین پر قائم رہنے والی،

اور اپنے ماں باپ کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔

اے اللہ!

اس باپ کی مغفرت فرما

جس نے اپنی بیٹی کو تیرے حوالے کیا،

اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے،

اور اس کی کی ہوئی ہر دعا کو

اس بیٹی کی زندگی میں قبول فرما۔

یا رب العالمین!

ہم سب کی بیٹیوں کو

ایمان، سکون اور عزت والی زندگی عطا فرما،

اور ہمارے گھروں کو

سنتِ نبوی ﷺ کا نمونہ بنا دے۔

آمین یا رب العالمین۔