I'm a Product

Saturday, April 19, 2025

ایک بچپن جو کبھی بچپن نہ رہا

ایک بچپن جو کبھی بچپن نہ رہا

یہ کہانی ہے اُس لڑکے کی جو محض آٹھ برس کی عمر میں اپنے خاندان سے جدا کر دیا گیا۔ زندگی نے اُسے ماں کی گود اور باپ کی شفقت سے دور کر کے ایک مدرسے کے یتیم خانے میں ڈال دیا۔ وہاں نہ کھیلنے کی آزادی تھی، نہ مسکراہٹوں کا ساز؛ بس چند کتابیں، چند سخت مزاج معلم، اور تنہائی کی چپ چاپ گواہی دیتی ہوئی دیواریں۔


اس کمسن بچے کے معصوم ذہن میں کئی سوالات پلتے رہے:

"میں نے کیا قصور کیا تھا؟ ماں باپ مجھے کیوں چھوڑ گئے؟ کیا یہ میرا گھر ہے؟"

مگر کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا، اور وقت نے بھی اُسے جواب دینے کے بجائے اندر ہی اندر گھٹنے پر مجبور کر دیا۔


ادھورا تعلیمی سفر، مکمل ذمہ داریاں

مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب دل نے تنہائی سے بغاوت کی، تو اُس نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور گھر کی حالت سدھارنے کا عزم لیے وہاں سے نکل گیا۔ اُس نے یہ نہیں سوچا کہ وہ ابھی بچہ ہے، اُس نے صرف یہ سوچا کہ "میرا گھر تکلیف میں ہے، مجھے کچھ کرنا ہے۔"


وہ دہلی پہنچا، اور بچپن کی جگہ مشقت نے لے لی۔ کبھی اینٹ اٹھائی، کبھی ترکاری بیچی، کبھی مزدوری کی۔ زندگی نے اُس کے ننھے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر اُسے کدال اور پھاوڑے تھما دیے۔


دبئی کی ریت میں گم خواب

سترہ سال کی عمر میں اُس نے روزی کے بہتر مواقع کے لیے دبئی کا رخ کیا۔ وہاں کام کا ماحول سخت، زبان اجنبی، اور دل بالکل تنہا تھا۔ مگر اُس کے ارادے مضبوط تھے۔ دن بھر کی مشقت، تپتی دھوپ، اور شور زدہ مزدور کیمپوں کے درمیان وہ صرف ایک خیال کو سینے سے لگائے جیتا رہا:

"ایک دن میرا خاندان سکون میں ہو گا، میرے بچے خوشحال ہوں گے۔"


لیکن ہر بار جب وہ واپسی کا سوچتا، گھر سے یہی جواب آتا: "ابھی نہیں، حالات بہتر نہیں۔"


واپسی، مگر سب کچھ ویسا نہ رہا

جب کئی سال بعد کمپنی بند ہونے کے بعد وہ وطن واپس آیا، تو اُسے وہی گھر ملا مگر ویسا ماحول نہ ملا۔ بھائیوں کے درمیان محبت کی جگہ خودغرضی آ چکی تھی۔ والدین کے چہرے پر شفقت کے بجائے خاموشی چھا چکی تھی۔ دل ٹوٹا، مگر اُسے جُڑنے کی فرصت نہ ملی۔


کیونکہ اب دو معصوم چہروں کی ذمہ داری اُس کے کندھوں پر آ چکی تھی—اُس کے اپنے بچے۔


نئے خواب، نئی کوشش، پھر ایک نئی شکست

اُس نے تمام جمع پونجی اکٹھی کی، ایک چھوٹی سی کپڑوں کی دکان شروع کی۔ مگر حالات سازگار نہ ہوئے، دکان بند ہو گئی، اور اُسے دوبارہ سعودی عرب جانا پڑا۔ وہاں اس نے لگاتار آٹھ برس محنت کی۔ اس دوران دادی کا انتقال ہوا—وہی دادی جو اُس کے بچپن کی واحد محبت تھیں۔


پھر، جب وہ واپس آیا، تو خاندان میں جائیداد کا جھگڑا سامنے آ گیا۔ دل برداشتہ ہو کر اُس نے خود کو اور اپنے بچوں کو ایک طرف الگ کر لیا، اور پھر ایک بار دل پر پتھر رکھ کر سعودی عرب واپس چلا گیا۔


باپ کا سایہ اُٹھ گیا

کچھ ہی مہینوں بعد خبر آئی کہ اُس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ وہ چاہ کر بھی آخری دیدار نہ کر سکا۔ یہ صدمہ اُس کے دل پر ایسا نقش چھوڑ گیا جو عمر بھر مٹ نہ سکا۔


آخری دَور — بیماری اور دائمی امید

اب اس کی عمر پچاس کو چھو رہی تھی، بلڈ پریشر، شوگر، آنکھوں کی روشنی کی کمی اور دوائیوں کا انبار اُس کی روزمرہ کی زندگی بن چکا تھا۔ مگر اُس کا حوصلہ قائم رہا۔ اُس نے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کی ٹھان لی۔ بیٹی نے میٹرک میں اچھے نمبر لیے، بیٹے نے انٹر میں۔ اُس نے خواب دیکھے کہ ایک ڈاکٹر اور ایک انجینئر گھر میں ہوں گے۔


مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ داخلہ ٹیسٹ میں بار بار ناکامی ہوئی۔ آخرکار اُس نے قرض لے کر دونوں کو نجی کالجوں میں داخل کروایا۔ خود کم کھایا، دوائیں چھوڑی، مگر بچوں کی فیس وقت پر دی۔


پانچ سال جو کبھی ختم نہ ہوئے

وہ ہر بار یہ سوچتا: "اب کی بار شاید قسمت بدل جائے۔ اگلے پانچ سال میں سب کچھ سنور جائے گا۔"

مگر وہ پانچ سال کبھی مکمل ہی نہ ہوئے۔ اور وہ اب بھی اسی امید پر جی رہا ہے، کہ کل بہتر ہو گا۔


اختتام — وہ جو خود کو بھول گیا

یہ کہانی ایک شخص کی نہیں، ہزاروں دیارِ غیر میں پسینے بہانے والے باپوں کی کہانی ہے، جو دن رات اپنے خاندان کے لیے جی تو لیتے ہیں، مگر خود کے لیے کبھی جیتے نہیں۔

جن کی میتیں ایک تابوت میں بند ہو کر وطن واپس آتی ہیں، اور اُن کے خواب—بے کفن، بے آواز—کبھی کے دفن ہو چکے ہوتے ہیں۔


ختم شد۔---

خواب


تحریر: ناصرصديقي

شہر کے ایک خاموش گوشے میں، جہاں گلیوں کی دیواریں بھی غربت کی تصویریں سنبھالے کھڑی ہیں، وہیں ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں ریاض احمد اپنی زندگی کے دن گن رہا ہے۔ چہرے پر وقت کی لکیریں، ہاتھوں میں محنت کے زخم، اور آنکھوں میں وہ خواب جو اب تک تعبیر سے محروم ہیں۔


ریاض احمد ایک متوسط طبقے کا فرد ہے۔ نہ زیادہ پڑھے لکھے، نہ زیادہ وسائل کے مالک۔ لیکن ان کی سوچ، ان کی امیدیں، اور ان کا دل بہت بڑا ہے۔ اپنی جوانی سے لے کر بڑھاپے تک، انہوں نے بس ایک ہی خواب دیکھا—کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب ہوں، خوددار زندگی گزاریں، اور وہ فخر سے کہہ سکیں: ’’یہ ہمارے ابو کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘


ریاض نے ہر دن ایک نئی مشقت کے ساتھ گزارا۔ صبح سویرے مزدوری کے لیے نکلتے، شام کو پسینے سے شرابور واپس آتے۔ فاقے بھی برداشت کیے، ضرورتیں بھی ماریں، لیکن بچوں کی فیس، کتابیں، یونیفارم، ہر چیز وقت پر فراہم کی۔ ان کی زندگی کا مرکز و محور صرف ایک چیز تھی: بچوں کا بہتر مستقبل۔


لیکن قسمت ہمیشہ محنت کا ساتھ نہیں دیتی۔


سال در سال، تعلیمی نتائج آتے گئے، مگر ریاض کے چہرے پر وہ مسکراہٹ کبھی نہ آ سکی جس کا خواب انہوں نے برسوں سے دیکھا تھا۔

’’ابو، اس بار تھوڑا سا اور وقت دے دیں، اگلی بار اچھا کروں گا۔‘‘

یہ جملہ ایک عرصے سے ان کے کانوں میں گونج رہا تھا، جیسے کسی پرانی ریکارڈڈ ٹیپ کی آواز ہو، جو بار بار چلائی جا رہی ہو۔


لوگ اکثر کہتے ہیں کہ والدین کو بچوں کے نتائج پر کچھ نہیں کہنا چاہیے، کیونکہ ناکامی صرف امتحان میں نہیں، زندگی کے کئی پہلوؤں میں ہو سکتی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ایک باپ جو صبح سے شام تک پسینے کی فصل اگاتا ہے، وہ صرف نمبروں کی نہیں، امیدوں کی فصل کاشت کرتا ہے۔


ریاض کی بیوی اکثر اسے دلاسہ دیتی، ’’اللہ کرم کرے گا، بس صبر رکھو۔‘‘

اور وہ، ہر بار یہی سوچ کر چپ ہو جاتا کہ شاید اگلے سال... شاید اگلی کوشش... شاید اگلا امتحان...


لیکن زندگی ہمیشہ ’’شاید‘‘ پر نہیں چلتی۔


اب ریاض احمد ساٹھ برس کا ہو چکا ہے۔ کمر جھک گئی ہے، بینائی کمزور ہو گئی ہے، دل میں اب پہلے جیسا جوش نہیں۔ لیکن آنکھوں میں خواب اب بھی زندہ ہیں—ادھورے، بکھرے ہوئے، ٹوٹے ہوئے۔

بچے اب جوان ہو چکے ہیں، مگر نہ کسی کے پاس مستقل نوکری ہے، نہ کوئی واضح راستہ۔ ہر ایک زندگی کے بھنور میں الجھا ہوا ہے، اور ریاض کے سوالوں کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔


کبھی وہ چپکے سے کمرے میں بیٹھ کر بچوں کی پرانی کاپیاں نکالتا ہے، ان میں لکھی ہوئی بے ربط لائنوں کو دیکھتا ہے، اور خود سے سوال کرتا ہے:

’’کہاں غلطی ہوئی؟ کیا میرے اخلاص میں کمی تھی؟ کیا میری دعاؤں میں تاثیر نہیں رہی؟‘‘


ایسے میں وہ رات آتی ہے جب ریاض خاموشی سے اپنی چارپائی پر لیٹتا ہے، اور خوابوں کی دنیا میں اتر جاتا ہے—اس امید کے ساتھ کہ شاید کسی اور جہاں میں، کوئی اور وقت ایسا ہوگا جہاں اس کے خواب مکمل ہوں گے۔


وہ خواب، جو دنیا نے نہیں دیکھے، لیکن جس کے لیے اس نے ساری زندگی صرف کر دی۔


ایسا خواب، جو اس کے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا، اور لوگ بس یہ کہیں گے:

’’ایک بوڑھا، جو زندگی بھر بس امید پر جیتا رہا۔‘‘

ایک ادھورا خواب

 

عنوان: ایک ادھورا خواب

رمضان کی ایک پرسکون رات تھی۔ باہر ہوائیں مدھم مدھم چل رہی تھیں، لیکن ریاض احمد کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ وہ ایک درمیانے طبقے کا سادہ سا آدمی تھا، جو ساری زندگی محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی امید باندھتا رہا۔ ہر دن، ہر رات بس یہی سوچ کر گزار دی کہ "آج اگر میں پسینے میں شرابور ہوں تو کیا، کل میرے بچے کامیاب ہو جائیں گے، میری تھکن رائیگاں نہیں جائے گی۔"

ریاض احمد کے خواب کچھ بڑے نہ تھے، وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر کسی عزت والی نوکری پر لگ جائیں، اور زندگی میں وہ تنگدستی نہ دیکھیں جو اس نے دیکھی۔

لیکن سالوں کا وہ انتظار، جو اس نے ایک روشن کل کے لیے کیا تھا، کبھی پورا نہ ہو سکا۔

بچوں کی پڑھائی کے لیے اس نے اپنے کپڑے بیچے، کبھی دو وقت کی روٹی چھوڑی، کبھی خود فاقے کیے، لیکن بچوں کو فیس، کتابیں، اور بہتر تعلیم دی۔ وہ ہر نتیجے کے دن دل تھام کر بیٹھ جاتا، یہ سوچ کر کہ شاید اب کچھ خوش خبری ملے گی۔ مگر ہر بار اس کے خواب چکنا چور ہو جاتے۔

"ابو، بس ایک بار اور موقع دو، اس بار اچھا کروں گا۔"
یہ جملہ وہ کتنی بار سن چکا تھا، اب گننا مشکل ہو گیا تھا۔

لوگ کہتے ہیں کہ والدین کو بچوں کے نتیجوں پر کچھ نہیں کہنا چاہیے، ان کا حوصلہ نہیں توڑنا چاہیے۔ لیکن اس دل کا کیا جو برسوں سے امیدیں باندھ کر بیٹھا ہے؟ اس قربانی کا کیا جو دن رات کی مشقت کے بعد دی گئی تھی؟

ریاض احمد اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ ہاتھوں میں رعشہ ہے، کمر جھک گئی ہے، لیکن دل ابھی بھی وہی خواب دیکھتا ہے—ایک روشن صبح، جس کا سورج شاید اب صرف اس کی قبر کی مٹی پر طلوع ہوگا۔

وہ خواب، جو اس نے اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے دیکھا تھا، اب اس کے ساتھ دفن ہو جائے گا۔ اور دنیا یہ سمجھے گی کہ وہ ایک عام سا آدمی تھا، جس کی زندگی میں کچھ خاص نہ تھا۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ایسا سپاہی تھا، جو بغیر ہتھیار کے، بغیر آرام کیے، زندگی کی جنگ لڑتا رہا—بس اس امید پر کہ کبھی تو اس کے دن بدلیں گے۔

لیکن کچھ انتظار... کبھی ختم نہیں ہوتے۔