تحریر: ناصرصديقي
شہر کے ایک خاموش گوشے میں، جہاں گلیوں کی دیواریں بھی غربت کی تصویریں سنبھالے کھڑی ہیں، وہیں ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں ریاض احمد اپنی زندگی کے دن گن رہا ہے۔ چہرے پر وقت کی لکیریں، ہاتھوں میں محنت کے زخم، اور آنکھوں میں وہ خواب جو اب تک تعبیر سے محروم ہیں۔
ریاض احمد ایک متوسط طبقے کا فرد ہے۔ نہ زیادہ پڑھے لکھے، نہ زیادہ وسائل کے مالک۔ لیکن ان کی سوچ، ان کی امیدیں، اور ان کا دل بہت بڑا ہے۔ اپنی جوانی سے لے کر بڑھاپے تک، انہوں نے بس ایک ہی خواب دیکھا—کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب ہوں، خوددار زندگی گزاریں، اور وہ فخر سے کہہ سکیں: ’’یہ ہمارے ابو کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘
ریاض نے ہر دن ایک نئی مشقت کے ساتھ گزارا۔ صبح سویرے مزدوری کے لیے نکلتے، شام کو پسینے سے شرابور واپس آتے۔ فاقے بھی برداشت کیے، ضرورتیں بھی ماریں، لیکن بچوں کی فیس، کتابیں، یونیفارم، ہر چیز وقت پر فراہم کی۔ ان کی زندگی کا مرکز و محور صرف ایک چیز تھی: بچوں کا بہتر مستقبل۔
لیکن قسمت ہمیشہ محنت کا ساتھ نہیں دیتی۔
سال در سال، تعلیمی نتائج آتے گئے، مگر ریاض کے چہرے پر وہ مسکراہٹ کبھی نہ آ سکی جس کا خواب انہوں نے برسوں سے دیکھا تھا۔
’’ابو، اس بار تھوڑا سا اور وقت دے دیں، اگلی بار اچھا کروں گا۔‘‘
یہ جملہ ایک عرصے سے ان کے کانوں میں گونج رہا تھا، جیسے کسی پرانی ریکارڈڈ ٹیپ کی آواز ہو، جو بار بار چلائی جا رہی ہو۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ والدین کو بچوں کے نتائج پر کچھ نہیں کہنا چاہیے، کیونکہ ناکامی صرف امتحان میں نہیں، زندگی کے کئی پہلوؤں میں ہو سکتی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ایک باپ جو صبح سے شام تک پسینے کی فصل اگاتا ہے، وہ صرف نمبروں کی نہیں، امیدوں کی فصل کاشت کرتا ہے۔
ریاض کی بیوی اکثر اسے دلاسہ دیتی، ’’اللہ کرم کرے گا، بس صبر رکھو۔‘‘
اور وہ، ہر بار یہی سوچ کر چپ ہو جاتا کہ شاید اگلے سال... شاید اگلی کوشش... شاید اگلا امتحان...
لیکن زندگی ہمیشہ ’’شاید‘‘ پر نہیں چلتی۔
اب ریاض احمد ساٹھ برس کا ہو چکا ہے۔ کمر جھک گئی ہے، بینائی کمزور ہو گئی ہے، دل میں اب پہلے جیسا جوش نہیں۔ لیکن آنکھوں میں خواب اب بھی زندہ ہیں—ادھورے، بکھرے ہوئے، ٹوٹے ہوئے۔
بچے اب جوان ہو چکے ہیں، مگر نہ کسی کے پاس مستقل نوکری ہے، نہ کوئی واضح راستہ۔ ہر ایک زندگی کے بھنور میں الجھا ہوا ہے، اور ریاض کے سوالوں کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔
کبھی وہ چپکے سے کمرے میں بیٹھ کر بچوں کی پرانی کاپیاں نکالتا ہے، ان میں لکھی ہوئی بے ربط لائنوں کو دیکھتا ہے، اور خود سے سوال کرتا ہے:
’’کہاں غلطی ہوئی؟ کیا میرے اخلاص میں کمی تھی؟ کیا میری دعاؤں میں تاثیر نہیں رہی؟‘‘
ایسے میں وہ رات آتی ہے جب ریاض خاموشی سے اپنی چارپائی پر لیٹتا ہے، اور خوابوں کی دنیا میں اتر جاتا ہے—اس امید کے ساتھ کہ شاید کسی اور جہاں میں، کوئی اور وقت ایسا ہوگا جہاں اس کے خواب مکمل ہوں گے۔
وہ خواب، جو دنیا نے نہیں دیکھے، لیکن جس کے لیے اس نے ساری زندگی صرف کر دی۔
ایسا خواب، جو اس کے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا، اور لوگ بس یہ کہیں گے:
’’ایک بوڑھا، جو زندگی بھر بس امید پر جیتا رہا۔‘‘
No comments:
Post a Comment