عنوان: ایک ادھورا خواب
رمضان کی ایک پرسکون رات تھی۔ باہر ہوائیں مدھم مدھم چل رہی تھیں، لیکن ریاض احمد کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ وہ ایک درمیانے طبقے کا سادہ سا آدمی تھا، جو ساری زندگی محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی امید باندھتا رہا۔ ہر دن، ہر رات بس یہی سوچ کر گزار دی کہ "آج اگر میں پسینے میں شرابور ہوں تو کیا، کل میرے بچے کامیاب ہو جائیں گے، میری تھکن رائیگاں نہیں جائے گی۔"
ریاض احمد کے خواب کچھ بڑے نہ تھے، وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر کسی عزت والی نوکری پر لگ جائیں، اور زندگی میں وہ تنگدستی نہ دیکھیں جو اس نے دیکھی۔
لیکن سالوں کا وہ انتظار، جو اس نے ایک روشن کل کے لیے کیا تھا، کبھی پورا نہ ہو سکا۔
بچوں کی پڑھائی کے لیے اس نے اپنے کپڑے بیچے، کبھی دو وقت کی روٹی چھوڑی، کبھی خود فاقے کیے، لیکن بچوں کو فیس، کتابیں، اور بہتر تعلیم دی۔ وہ ہر نتیجے کے دن دل تھام کر بیٹھ جاتا، یہ سوچ کر کہ شاید اب کچھ خوش خبری ملے گی۔ مگر ہر بار اس کے خواب چکنا چور ہو جاتے۔
"ابو، بس ایک بار اور موقع دو، اس بار اچھا کروں گا۔"
یہ جملہ وہ کتنی بار سن چکا تھا، اب گننا مشکل ہو گیا تھا۔
لوگ کہتے ہیں کہ والدین کو بچوں کے نتیجوں پر کچھ نہیں کہنا چاہیے، ان کا حوصلہ نہیں توڑنا چاہیے۔ لیکن اس دل کا کیا جو برسوں سے امیدیں باندھ کر بیٹھا ہے؟ اس قربانی کا کیا جو دن رات کی مشقت کے بعد دی گئی تھی؟
ریاض احمد اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ ہاتھوں میں رعشہ ہے، کمر جھک گئی ہے، لیکن دل ابھی بھی وہی خواب دیکھتا ہے—ایک روشن صبح، جس کا سورج شاید اب صرف اس کی قبر کی مٹی پر طلوع ہوگا۔
وہ خواب، جو اس نے اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے دیکھا تھا، اب اس کے ساتھ دفن ہو جائے گا۔ اور دنیا یہ سمجھے گی کہ وہ ایک عام سا آدمی تھا، جس کی زندگی میں کچھ خاص نہ تھا۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ایسا سپاہی تھا، جو بغیر ہتھیار کے، بغیر آرام کیے، زندگی کی جنگ لڑتا رہا—بس اس امید پر کہ کبھی تو اس کے دن بدلیں گے۔
لیکن کچھ انتظار... کبھی ختم نہیں ہوتے۔
No comments:
Post a Comment