زکوٰۃ نہ صرف ایک مالی عبادت ہے بلکہ یہ مسلمان کی روحانی پاکیزگی اور معاشرتی نظام میں انصاف و برکت کے فروغ کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہ میں زکوٰۃ کی تاکید اس بات کی دلیل ہے کہ مال حقیقی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے دل میں لالچ اور بخل کا خاتمہ ہوتا ہے اور انسان اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے۔
اسلامی معاشرہ میں زکوٰۃ کے ذریعے دولت کا ایک حصہ امیروں سے غریبوں کی طرف منتقل ہوتا ہے، جس سے نہ صرف فرداً فرداً غربت مٹتی ہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی معاشرتی توازن برقرار رہتا ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے نہ صرف مادی برکت حاصل ہوتی ہے بلکہ اس سے انسان کی روحانی بلندی اور تقویٰ میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ سورۃ التغابن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرض دو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے۔
مزید برآں، زکوٰۃ کے نظام کے تحت حکومتیں بھی معاشرتی فلاح و بہبود کے منصوبے نافذ کر سکتی ہیں، جیسے کہ بے روزگاری، علاج معالجہ، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی۔ اس طرح نہ صرف فرد کی بلکہ پورے معاشرے کی اقتصادی حالت میں بہتری آتی ہے، اور معاشرتی انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔
نتیجہ:
زکوٰۃ دین کا ایک اہم رکن ہے جو ایمان کی تجدید کے ساتھ ساتھ معاشرتی ہم آہنگی اور اقتصادی ترقی کا بھی باعث بنتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی نعمتوں کا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے نہ صرف اپنی روح کو پاک کریں بلکہ اپنے معاشرے میں برکت و بھائی چارہ بھی فروغ دیں۔
No comments:
Post a Comment