I'm a Product

Saturday, October 11, 2025

مذہبی شناخت اور سیاسی ماحول موجودہ ہندوستانی معاشرت کا تجزیہ


عنوان: مذہبی شناخت اور سیاسی ماحول — موجودہ ہندوستانی معاشرت کا تجزیہ*

تمہید

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی تہذیبی رنگا رنگی، مذہبی تنوع، اور ثقافتی ہم آہنگی کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، زبانیں، رسم و رواج، اور طرزِ زندگی ایک ہی سرزمین پر صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہی تنوع دراصل اس ملک کی پہچان بھی ہے اور اس کی طاقت بھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، اس تنوع کو طاقت کے بجائے کمزوری بنا دینے کی کوشش کی گئی۔


آزادی کے فوراً بعد ہندوستان نے خود کو ایک سیکولر جمہوریت کے طور پر پیش کیا۔ آئین میں صاف لکھا گیا کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا، اور تمام شہریوں کو مذہب، ذات، اور فرقے سے بالاتر ہو کر برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔ یہ نظریہ ملک کے اتحاد اور بھائی چارے کی بنیاد تھا۔ مگر وقت کے ساتھ، سیاسی مفادات نے اس نظریے کو کمزور کر دیا۔ مذہب کو ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا، اور ایک نیا بیانیہ جنم لینے لگا — جس میں شناخت مذہب سے طے ہونے لگی، کردار سے نہیں۔


نتیجہ یہ ہے کہ آج معاشرتی گفتگو کے اہم موضوعات، جیسے مہنگائی، بیروزگاری، تعلیمی معیار، اور صحت کے نظام کی کمزوری، پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ان کی جگہ ایسے مسائل نے لے لی ہے جو قوم کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر نفرت، شک، اور مسخ شدہ فخر نے عوامی شعور پر پردہ ڈال دیا ہے۔--

مذہب اور سیاست — تاریخی پس منظر

ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ سے مذہب، فلسفے، اور روحانیت کا گہوارہ رہی ہے۔ مختلف عقائد صدیوں تک ایک ساتھ رہے۔ مگر سیاسی مفادات نے اکثر مذہب کو طاقت کے لیے استعمال کیا۔ برطانوی دور میں “پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو” کی پالیسی نے فرقہ وارانہ سوچ کو ہوا دی۔ آزادی کے بعد بھی مذہبی شناخت کو ووٹ بینک کے لیے استعمال کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شہری اب اپنے کردار کے بجائے مذہب کی بنیاد پر ناپے جانے لگے

موجودہ دور کا منظرنامه

گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں سیاسی اور سماجی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ملک کی ترقی، روزگار، تعلیم اور صحت کے مسائل کی جگہ اب زیادہ تر گفتگو مذہب اور نظریاتی شناخت کے گرد گھومتی ہے۔


نوجوان طبقہ، جو ملک کی اصل طاقت ہے، سوشل میڈیا اور جذباتی پروپیگنڈے کی وجہ سے الجھا ہوا نظر آتا ہے۔ سیاست دان اور میڈیا عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر نظریاتی اور مذہبی اختلافات پر مرکوز کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے دماغ مسائل کے بجائے شناخت کے بیانیوں میں الجھ جاتے ہیں۔


بگڑتا ہوا سماجی توازن

سماجی توازن اعتماد، احترام اور انصاف پر قائم ہوتا ہے۔

مگر فرقہ وارانہ واقعات، میڈیا اور سیاسی بیان بازی نے عوام کے دلوں میں دوریاں پیدا کر دی ہیں۔

خوف اور شک کی فضا نوجوانوں کو منطقی سوچ سے دور کر رہی ہے، اور معاشرتی ہم آہنگی خطرے میں ہے۔


بیروزگاری، مہنگائی اور گمراہ کن ترجیحات

ملک میں نوجوانوں کی تعلیم اور ہنر کے باوجود روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ مہنگائی نے زندگی مشکل کر دی ہے۔

سیاسی جماعتیں اور میڈیا عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر مذہبی اور نظریاتی بیانیوں پر مرکوز کر دیتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ عوامی توانائی نفرت اور خوف کی طرف مڑ جاتی ہے، جبکہ حقیقی ترقی پس منظر میں رہ جاتی ہے۔


میڈیا، تعلیم، بہتر ہندوستان اور نتیجہ

میڈیا، جو کبھی عوام کی آواز ہوا کرتا تھا، آج اکثر طاقت اور سیاست کے تابع ہے۔ نوجوان اور عوام حقیقی مسائل کے بجائے نظریاتی اختلافات پر مصروف ہیں۔


تعلیم اور سماجی بیداری ہی وہ ذریعہ ہیں جو نوجوانوں کو منطقی سوچ، رواداری، اور مثبت سوچ کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں میں شعور پیدا کریں تاکہ وہ سماجی تقسیم کے بجائے ترقی کی طرف راغب ہوں۔


ہندوستان کو دراصل سماجی ہم آہنگی اور عملی ترجیحات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اپنے ہنر، علم اور تعلیم پر توجہ دینی ہوگی۔ شہریوں کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے۔


مذہبی اور سیاسی تقسیم نے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی ہے، مگر تعلیم، شعور، رواداری، اور عملی ترجیحات پر توجہ دے کر ہم نہ صرف اپنی ذاتی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے ملک کو مضبوط اور متحد کر سکتے ہیں۔


یاد رکھیں: ایک اچھا شہری وہ ہے جو اپنے ملک، معاشرت اور انسانیت کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اختلافات کے باوجود انصاف اور علم کے راستے پر قائم رہے، اور نسلِ نو کو بھی یہی سبق دے۔


No comments:

Post a Comment